اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پرس ٹی وی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے معروف امریکی سیاسی تجزیہ نگار کیون بیرٹ نے کہا کہ گذشتہ سال اگست شام میں ہوئے کیمیائی حملے کی طرز پر مزید حملے کرنے کیلئے جارجیہ کے دارالحکومت طبلیسی میں سائرن گیس تیار کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ طبلیسی میں تیار کی جارہی سائرن گیس کے بارے میں دنیا کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے اور حقیقت میں اس کے پیچھے ایسے امریکی شر پسند گروپوں کا ہاتھ ہے جن کا تعلق سابق امریکی صدر جارج بش کی انتظامیہ سے ہے۔ان کا کہنا تھاکہ گذشتہ سال باراک اوبامہ کے کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال پر انتباہ سے شامی باغیوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے جو کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کرکے اس کا الزام دمشق حکومت پر عائد کرنا چاہتے ہیں۔
کیون بیرٹ نے کہا کہ 2013 میں گوتا شرقیہ میں کیمیاوی حملے کو غیر ملکی حمایت یافتہ دہشتگردوں نے انجام دیا تھا تاکہ امریکہ کو شام پر حملے کیلئے اُکسایا جاسکے۔
حال ہی میں امریکہ کے معروف تحقیقاتی صحافی سیمور ہیرش نے اپنے ایک مضمون میں اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ گذشتہ سال شام میں ہوئے کیمیائی حملے میں ترکی کا ہاتھ تھا اور صدر اوبامہ ااور امریکی خفیہ ایجنسیاں اس بات سے پوری طرح واقف تھے۔
واضح رہے کہ گذشتہ سال شام میں ہوئے کیمیائی حملے کا الزام امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے دمشق حکومت پر عائد کیا تھا لیکن دمشق نے ان تمام الزامات کو یہ کہہ کر مسترد کیا تھا کہ اس حملے کو غیر ملکی حمایت یافتہ دہشتگردوں نے اس لیئے انجام دیا تاکہ شام میں غیر ملکی مداخلت کی راہ ہمورا ہوسکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲